امریکا اور کینیڈا ،سمندر سے جانور غائب ہونے کی وجہ سے پریشان

دلچسپ(روزنامہ یورپ انٹرنیشنل) امریکا کے پڑوسی ملک کے سے جانور غائب ہورہے ہیں۔سائنسدان عرصے سے برمودا ٹرائی اینگل کے اسرار کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں اور اب ان کے سامنے کینیڈا میں ایسا چیلنج سامنے آگیا ہے جو اب تک کسی کی سمجھ نہیں آسکا ہے۔رواں سال موسم گرما میں کینیڈا کے شمال مشرق میں واقع علاقے نیواوٹ میں بحیرہ آرکٹک کی تہہ سے شکاریوں اور ملاحوں نے پراسرار آوازیں سنی تھیں، جن کا راز اب تک سامنے نہیں آسکا۔اور ان آوازوں کی وجہ جو بھی ہو مگر ایسا نظر آتا ہے کہ وہاں کی سمندری حیات اس سے خوفزدہ ہے۔مقامی اسمبلی کے ایک رکن جارج کوالکوٹ نے سی بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ علاقہ بوہیڈ وہیل مچھلیوں اور مختلف اقسام کے دیگر سمندری جانوروں کی ایک سے دوسرے علاقے میں منتقلی کی گزرگاہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ اس حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ رواں موسم گرما میں ایک جانور بھی یہاں نظر نہیں آیا۔اس علاقے کی آبادی کے روزگار کا انحصار بھی ماہی گیری پر ہے تو سمندری حیات اچانک غائب ہوجانا قابل توجہ اور ان کے لیے تباہ کن ثابت ہورہا ہے۔ایسی افواہیں سامنے آئی تھیں کہ ماحولیاتی بہتری کے لیے کام کرنے والا عالمی ادارہ گرین پیس ان پراسرار آوازوں کے پیچھے ہوسکتا ہے تاکہ یہاں کی سمندری حیات کو خوفزدہ کرکے شکار سے بچاسکے مگر اس ادارے نے اس کی تردید کی ہے۔اب تک اس پراسرار آواز کی وضاحت کے لیے کوئی خاص کام ہوتا نظر نہیں آرہا جبکہ مقامی آئرن مائن کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس نے بھی زیرآب کسی قسم کے آلات نصب نہیں کیے۔تاہم اب کینیڈین فوج نے ان پراسرار آوازوں کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات شروع کی ہے۔مگر اب تک کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آخر سمندر کے اندر یہ کیا ہورہا ہے۔