فرینکفرٹ میں شریف اکیڈمی جرمنی کا اجلاس‘ ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل

فرینکفرٹ (روزنامہ یورپ انٹرنیشنل) کے مطابق شریف اکیڈمی جرمنی کا ایک غیر رسمی اجلاس چیف ایگزیکٹو شفیق مراد کی سربراہی میں فرینکفرٹ کے ایک مقامی ریسٹورانٹ میں منعقد ہوا جس میں اکیڈمی کے اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے فرینکفرٹ اورجرمنی کے دیگر شہروں میں اکیڈمی کی ایگزیکٹو باڈی کی تشکیل پر غور کیا گیا۔ فرینکفرٹ کی سطح پر اہل علم ،دانشوروں ،محققین اورعلم و ادب سے لگاو ¿ رکھنے والے افراد پرمشتمل ایگزیکٹو ممبران کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا مقصد علم و ادب کا فروغ اور تحقیقی و فکری نشستوں اور دیگر پروگراموں کا انعقاد ہے۔ اکیڈمی کے زیر اہتمام تحقیقی و فکری نشست ہر ماہ کرانے کا فیصلہ کیا گیاجس میں مختلف علوم اور ادب کی مختلف اصفاف پر تحقیقی اور فکری مقالہ جات پیش کئے جایئں گے تا کہ موجودہ دور میں تخلیق پائے جانے والے ادب کے مقام کا تعین کیا جا سکے۔علاوہ ازیں ہر تیسری نشست ، شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتاب پر تحقیقی،تنقیدی اور تعارفی نشست ہوگی۔اسی طرح شریف اکیڈمی کو موصول ہونے والی کتب کو گاہے بگاہے متعارف کریا جائے گا ۔”تحقیقی و فکری نشست “میں پیش کئے جانے مقالہ جات کو مختلف اخبارات و رسائل میں اشاعت کے لیے ارسال یا جائے گا اور اکیڈمی کے تحت شائع ہونے والے ”شمس میگ ۔لندن “ کی زینت بنایا جائے گا ۔ شفیق مراد نے کہا کہ مشاعروں اور ادبی پروگراموں کے انعقاد کا مقصدتخلیق کو متعارف کرانا اور عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ ایسی نشستوں کی اشد ضرورت ہے جو قلم کار کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں نہ صرف معاون ہوں بلکہ اس کی سوچ کو نئے زاویئے عطاء کرنے میں معاون ہوں تا کہ تخلیق میں بہتری ہو اور فصاحت و بلاغت ہو ۔
پہلی جرمن اردو ڈکشنری کے مصنف ،انسانی نفسیات اور رویوں پر متعدد کتابوں کے مصنف‘ محقق اور دانشور خورشید علی نے کہا کہ تخلیق اسی صورت میں آفاقی ہو سکتی ہے جبکہ سوچ آفاقی ہو اور انسان کی سوچ کی پرواز بلند ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ مقصد حیات کا ہونا بہت ضروری ہے یہ انسان کو جذبہ اور ولولہ عطا کرتا ہے ۔انہوں نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور اجلاس میں موجود ممبران کو اپنی ڈکشنری بطور تحفہ پیش کی۔ تمام ممبران نے ان کی تخلیق کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ سماجی اور معاشرتی ناہمواریوں اور بین الاقوامی مسائل پر4 کتابوں کے مصنف دانیال رضا نے تخلیق ادب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شعروادب کے مروجہ اصولوں کے ساتھ ساتھ موجودہ سماجی‘ معاشرتی اور معاشی مسائل کو ادب میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کیا جائے تا کہاصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ذہنی سطح بلند ہو اور انسان کو قدر و منزلت عطا ہو۔ محترم فضل محمود اور محترمہ طاہرہ فضل نے جن کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے اکیڈمی کی 10 سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کاروان علم و ادب میں شمولیت پر مسرت کا اظہار کیا۔ جرمنی میں مقیم شاعری کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ محترمہ شازیہ نورین نے اکیڈمی کے زیر اہتمام ” تحقیقی اور فکری نشست “کے انعقاد کو سراہتے ہوئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ اور اسے قلمکاروں کے لیے ایک بامعنی اوربامقصد عمل قراد دیا ۔
ڈیلی یورپ انٹرنیشنل کے چیف ایڈیٹر و کالم نگار انعام الحق نے کہا کہ شریف اکیڈمی کے ساتھ ان کا اس وقت سے تعلق ہے جبکہ وہ پاکستان میں تھے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ علم و ادب کے نور سے دنیا کو منورکرنے میں اپنا فعال کردار کریں گے۔ راشد احمد اور وحید حسین نے شرکت کر کے محفل کو رونق بخشی ۔عرصہ 40 سال سے فرینکفرٹ میں مقیم سماجی شخصیت سلیم بھٹی نے اکیڈمی کی تنظیم نو کے حوالے سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فرینکفرٹ اور جرمنی کے دیگر شہروں میں ادبی نشستوں اورپروگراوں کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کریں گے ۔شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ،ناروے میں مقیم شاعرہ فطرت نبیلہ رفیق کا شعری مجموعہ” یادوں کے جگنو“ شرکاءمجلس کو پیش کیا گیا۔

https://www.youtube.com/dailyeuropeint/
Subscribe our Youtube channel.