پاکستان کا مطلب کیا؟

احتشام راجہ
فرینکفرٹ  جرمنی

پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔یہ تھا وہ ’نعرہءعالمگیر‘ جس نے پاکستان کو جنم دیا اور یہی نعرہ پاکستان کا منشور بھی تھا۔پاکستان اور پاکستانی کی تعریف بھی۔اس کا حقیقی مطلب یہ تھا کہ ایک ایسا خطہ جس میں حکمرانی اللہ کی ھو گی اور اس میں رہنے والے ایک خدا کو ماننے والے ہونگے اور جو نہ ماننے والے ہونگے ان کو بھی تحفظ دیا جائیگا۔ یعنی مختصر طور پر، جسکو بھی خدا نے پیدا کیا وہ اس مملکت خداداد کا شہری ھو گا۔
مگر افسوس صد افسوس کہ ایک ایسا طبقہ جو نہ تو پاکستان کا حامی تھا اور نہ ہی آزادی پاکستان کا حصہ بنا۔لیکن جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اسلام کا ٹھیکیدار بن کر سب سے پہلے جس یونیق نعرہ سے آزادی حاصل کی گئی اس کو تبدیل کر کے اس میں ” محمد رسول اللہ ” کا اضافہ کر کےصرف مسلمانوں تک محدود کر دیا اور ایک طرف تاریخ کو مسخ کر دیا گیا۔ دوسری طرف توحید پرست اور عام پاکستانیوں کو طبقات میں تقسیم کرنے کی سازش کی بنیاد ڈال دی گئی۔علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم کی سوچ کو پس پشت ڈال کر پاکستان کے حقیقی قائدین کو بھی نہیں چھوڑا اور گناہ عظیم کے مرتکب ھوئے۔اس نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں میں اتنی جرآت نہ تھی جب تک انکے ساتھ ملک کی کرپٹ بیوروکریسی اور مفاد پرست سیاستدان اس چھوٹے سے گروپ میں شامل نہ ھوتے۔ اس سازشی گروہ نے بہت منظم انداز میں پاک سر زمین  میں دیمک کی طرح ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کردیا اور ساتھ ساتھ اپنے گندے انڈوں سے بچے نکالنے نہ صرف شروع کردیئے بلکہ دوسرے ممالک سے تعلیم دلا کر حکومتیں کرنے اور عوام کو یرغمال بنانے کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا۔جب بھی ان سے بات کریں تو کہتے ہیں ملک کو قائد اعظم کا ملک بنا رہے ہیں ۔اگر غور سے نہ بھی دیکھیں تو نظر آتا ھے کہ یہ جسطرح پہلے قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے تھے آج بھی اپنے عمل سے یہی ثابت کر تھے ھیں۔کیونکہ قائد اعظم کے پاکستان میں فوج کا کمانڈر انچیف ایک انگریز تھا،چیف جسٹس ایک ہندو تھا وزیر خارجہ ایک احمدی مسلمان تھا۔غرض قائد کا پاکستان ریاست مسلم تھی لیکن ریاست کے باسی صرف اور صرف پاکستانی تھے۔ پھر یہی سازشی ٹولہ تھا جس نے قائد اعظم کا پسندیدہ اور منظور شدہ قومی ترانہ بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا کیونکہ وہ قائد کی فرمائش پر ایک ھندو شاعر نے لکھا تھا۔ اور قائد کی زندگی تک کسی کو تبدیل کرنے کی جرات نہ ھوئی۔اگر یہ گروہ مخلص ھوتا تو منسوخ شدہ ترانے سے بہتر قومی ترانہ لاتا۔قومی ترانہ تو قومی زبان میں ھی ہوتا ھے اور انہوں نے دے دیا فارسی زبان میں ۔۔۔ سبحان اللہ جو نہ تو قومی زبان ھے اور نہ ھی علاقائی۔ سوائے جگ ہنسائی کے کچھ نہیں ۔ بس یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی بد قسمتی ھے کہ مختصر سا دیدہ اور نادیدہ گروہ نے اس کو یرغمال بنا رکھا ھے۔
پاکستان اور پاکستانی عوام کی اخلاقی ترقی تب ھی ممکن ھے جب اسی نعرہ ( پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ )  کو اپنی تمام تر عظمت کے ساتھ رواج دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ توحید پرست مذاہب قومی دھارے میں بطور پاکستانی اور صرف پاکستانی حصہ بن سکیں۔پاکستان کی ترقی اس میں ہی ھے کہ پاکستان میں رہنے والا پاکستانی اور صرف پاکستانی کہلائے اور ہر قسم کی طبقات تقسیم کو ختم کیا جائے یا انہیں ملکی قوانین سے کبھی تجاوز نہ کرنے دیا جائے۔