بلیاں حج کیلئے تیاری کر لیں۔۔۔

بلیاں حج کیلئے تیاری کر لیں۔۔۔
تحریر:انعام الحق
آجکل پاکستان میں ایک حاجی صاحب بہت مشہور ہیں۔آپکو بغیر کسی کشمکش میں ڈالے واضح کئے دیتا ہوں،حاجی ثاقب نثار صاحب کا نام توآپ نے سُنا ہوگا،ہاں ہاں!وہی وہی جو آجکل چیف جسٹس پاکستان بھی ہیں۔پاکستان پر یہ وقت بھی آنا تھا!کہاں وہ شخص جو ملک بناتے ہوئے یہ کہہ گیا کہ ’’آپ آزاد ہیں،آپ لوگ اس ملک پاکستان میں اپنی اپنی عبادت گاہوں، مسجدوں، مندروں یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے آزاد ہیں،آپ کا مذہب کیا ہے، فرقہ کیا ہے،ذات کیا ہے،قوم کیا ہے اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘ اور ایک یہ شخص ہے جو پاکستان کا چیف جسٹس ہوکر اپنی تقریر میں ہندو اقلیت کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتا۔شاید اسی وجہ سے پاکستان غیر محفوظ اقلیتوں کے لحاظ سے دُنیا کا ساتوں بڑا ملک ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کرنے والا ہر حاکم یہی کہتا رہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو اْن کے تمام حقوق ملتے ہیں۔ لیکن پاکستان کاآئین اس قسم کے جھوٹے بیانات کی تردید کرتا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے آج تک پاکستان میں چیف جسٹس کی کُرسی پر25اشخاص نے اپنے جوہر دکھانے کی کوشش کی،لیکن کوئی نہ کوئی کارنامہ کسی نہ کسی کے حصے ضرور آیا۔سیاستدانوں کی طرح اپنے دور کو بہترین قرار دینے والے ان تمام اشخاص نے اس ملک کے ساتھ وہ کیا ہے جس کا تصور مغربی ممالک میں سو سال پہلے ہوا کرتا تھا۔اس لحاظ سے پاکستان آج بھی مغربی ممالک سے سو سال پیچھے کھڑا ہے۔ان 25منصفین اعلیٰ میں سے بدنامِ زمانہ دور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے گزارایہ وہ دور تھا جس میں فیصل آباد میں واش رومز کی دیواروں پر افتخار چوہدری واش روم اور کراچی میں گدھوں تک پر افتخار چوہدری لکھا گیا جبکہ یہ وہی شخص تھا جس کے لئے پورے ملک نے مل کر مشرف کے خلاف جنگ لڑی اور اسے بحال کروایا لیکن جناب نے بحال ہوکر کراچی والوں نے جو لکھا اُسے سچ کر دکھایا۔آجکل میاں ثاقب نثار کارنامے دیکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انتہائی شرم کی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے تمام انصاف فروش منصفین اعلیٰ کرسی کا استعمال کرنے آتے رہے اور استعمال کرکے جاتے رہے اور عوام بھیڑوں کی طرح بے بے کرتے ہوئے اُنکے نام کے نعرے لگاتے رہے لیکن نہ تو کوئی ایک بھی انصاف فراہم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہوا اور نہ ہی کوئی دہائیوں سے چلے آرہے کیسوں کے فیصلے دے سکا۔پاکستان میں عدلیہ اور نظام عدل دونوں ہی بِکائوہیں۔قانون پیسوں کے بل پر بنتا ہے اور پیسوں کے عوض فروخت ہو جاتا ہے۔سالہا سال سے گواہ،وکیل اور جج بِکتے چلے آرہے ہیں اورڈھٹائی کیساتھ پاکستان کا چیف جسٹس سابقہ منصفین کو بُرا بھلا کہتا ہے اور یقینا خود اگلے آنے والے کیلئے کیسوں کی بھرمار چھوڑ کر چلا جائے گا۔پاکستانی علماء کی طرح ججوں کو بھی سیاست میں آنے اور تقریریں کرنے کا شوق پیدا ہوتا جا رہا ہے۔اسی لئے آئے دن محفلوں میں تقریروں اور بڑے بڑے دعوں سے اخباروں کی سُرخیاںبھری رہتی ہیں۔
پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دور میں وہ والا تیر چلا کر دیکھائیں گے جوسابقہ ادوار میں کوئی نہیں چلا سکا۔لیکن مجھے تو یہ لگتا ہے کہ چند مخصوص مقاصد کیلئے میاں ثاقب نثار کو اِس کُرسی پر اسٹیبلشمنٹ کے دبائوسے بٹھایا گیا ہے۔ورنہ اسی اسٹیبلشمنٹ کے دور میں پہلے چور باریاں لیتے رہے ہیں اور ملک کو لوٹتے رہے ہیں۔جس نواز شریف کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اب پڑی ہے وہی نواز شریف اسی ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے پاکستان کے امیر ترین اشخاص کی فہرست میں شامل ہوا ہے ۔خیر اسٹیبلشمنٹ نے موجودہ چیف جسٹس کے ذمے مخصوص مدت کے دوران اہم کام سونپ دئیے ہیں اور میاں ثاقب نثار صاحب یہ کوشش کررہے ہیں کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے تمام لفافہ خور ججوں کو شامل کرکے ایک پیکج تیار کر لیں۔یعنی پاکستانی عدلیہ حج کیلئے تیار ی کر لے۔۔۔