سعودی شہزادہ پریشان ہے!

سعودی شہزادہ پریشان ہے!
اے حق۔لندن
کُچھ عرصہ قبل سعودی شہزادہ صاحب برطانیہ تشریف لائے اور کروڑوں لیٹر تیل خرچ کر کے چلے گئے۔تیل سے مراد کروڑوں ڈالر.!ظاہر ہے تیل کی کمائی ہے۔جانتے ہیں کیوںاُنہوں نے ایسا کیوں کیا؟میں بتاتا ہوں،اس کی حقیقت جاننے کیلئے یورپ کا رُخ کرنا ضروری ہے۔یورپ میں جدید ٹیکنالوجی سے تیار شدہ گاڑیوں کی تیاری تیزی سے جاری ہے اور یورپی یونین کے بڑے مگرمچھوں کا یہ کہنا ہے کہ 2030تک یعنی آنے والے بارہ یا تیرہ سال میں یورپ بھر کو ٹرانسپورٹیشن کیلئے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ مسلم ممالک کے لیڈروں کی طرح چھوڑا گیا شوشا سمجھا جا رہا تھاجیسا کہ اکثر مسلم ممالک کے لیڈر شوشا چھوڑ کر پھر یوٹرن لے لیتے ہیں۔لیکن اس بات کا اندازہ تب ہوا جب یورپ میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے اشتہارات اور قیمتوں کا اعلان منظر عام پر آیا۔تمام تیل بیچنے والے ممالک حیران و پریشان ہوگئے اور اپنے مستقبل کی فکر میں لگ گئے۔2016میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد2ملین کے قریب تھی لیکن اب2018میں یہ تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے اور متعدد گاڑیاں بنانے والی کمپنیاںبھی بجلی سے چلنے والی گاڑیاں تیار کرنے کا اعلان کرچکی ہیں اورتیزی سے اس پر کام جاری ہے۔
اب سعودی عرب کو اس بات کی فکر ہے کہ متحدہ عرب امارات اس بات سے بے فکر ہے کہ اگر تیل کی فروخت کم ہوبھی گئی تو جس قدر عرب امارات ترقی کر چکا ہے اور دُنیا بھر کی سرمایہ دار کمپنیاں ابوظہبی اور دبئی میں اپنا پیسہ لگا چکی ہیں ،متحدہ عرب امارات اور اُنکی عوام کو مرنے نہیں دیں گی۔سعودی عرب کے شہزادے کو یہ علم ہے کہ سعودی عرب کے پاس تیل کے سوا کُچھ بھی نہیں ہے۔البتہ مکہ اور مدینہ میں آنے والے دُنیا بھر کے مسلمان سعودی عرب کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے۔
سعودی شہزادے نے برطانیہ جاکر کروڑوں پائونڈ خرچ کرنے کے بعد یہ اعلان کی ہے کہ وہ سعودی عرب کو پوری دُنیا کے ممالک کے لئے میزبان کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں،یعنی تشریف لائیں ہمارا ملک حاضر ہے۔چند دن کیلئے برطانیہ کی ہر تشہیری مہم پر سعودی شہزادے کی تصاویر نمایاں رہیں۔سعودی شہزادہ یہ قدم اُٹھانے سے پہلے دو باتوں کو شاید بھول گیا یا ان دونوں باتوں کے سنگین پہلوئوں سے واقف نہیں ہے۔پہلی تویہ کہ اسلام کے مرکز میں دُنیا جہان کی فحاشی اور عیاشی کے اڈوں کا قیام جو عالمی میزبانی کے بعد سعودی عرب کو پیش کرنے پڑیں گے اور دوسرا یہ کہ تمام اسلامی ممالک کی اتحادی مخالفت کا سامنا بھی سعودی عرب کو کرنا پڑ سکتا ہے۔سعودی شہزادہ یہ چاہتا تو ہے کہ سعودی عرب کو دُبئی جیسا جدید اور عالمی ٹریڈ کا گڑھ بنا دے لیکن یہ بھول رہا ہے کہ دبئی نے دبئی بننے کیلئے کتنے پاپڑ بیلے ہیں،کتنی مشکلات کا سامنا کیا ہے،کتنی اُنچائی اور کتنی پستی دیکھی ہے اور سالہا سال کی محنت اور تجربوں کے بعد دبئی ،دبئی بنا ہے۔اگر متحدہ عرب امارات اگر واقعی متحدہ نہ ہوتے تو نہ تو آج دبئی کا نام دُنیا میں ہوتا اور نہ ہی کوئی ابوظہبی کو جانتا۔رہی بات شارجہ اور دیگر چار ریاستوں کی تو اُنہیں متحدہ عرب امارات میں آج بھی اُتنا ہی جانا جاتا ہے جتنا پہلے جانا جاتا تھا۔
سعودی شہزادے کے اس قدم سے اور عالمی ٹریڈ مارکیٹ کا اہم اور سرگرم رکن بننے کی کوشش سے ایک بار پھر مسلمانوں کے دینی مراکز مکہ اور مدینہ میں نہ صرف فحاشی کو فروخ ملے گا بلکہ شراب خانے اور بُت خانے کھلنے کا بھی خدشہ ہے جسے سعودی عرب کو جدت کے نام پر مجبوراً فروخ دینا ہوگا۔جیسا کہ سعودی عرب کو نہ چاہتے ہوئے بھی خواتین کو گاڑی چلانے دینے کی اجازت دینا پڑی۔ابھی تو آگے آگے دیکھیں سعودی عرب کن کن باتوں کی اجازت دے گا۔