عوام کے پیسوں کا حساب دینا ہوگا۔ثاقب نثار

لاہور﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی، ان پیسوں کا حساب دینا ہوگا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر صوبائی حکومتوں کی تشہیری مہم کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں حکومتی تشہیری مہم سے متعلق مکمل رپورٹ پیش نہ کرنے پر اظہارِ برہمی کیا اور استفسار کیا کہ کہاں ہے آپ کا وزیرِ اعلیٰ؟ کہاں ہے آپ کا چیف سیکرٹری؟

چیف جسٹس کے حکم پر چیف سیکرٹری عدالت کے روبرو پیش ہوئے، چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو اپنی تشہیر کے لئے استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی؟ آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ کس کے کہنے پر کس کس چینل کو کتنے اشتہارات دیئے گئے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری اطلاعات کو حکم دیا کہ ابھی جائیں اور فائلیں کھولیں اور رپورٹ بنا کر لائیں، ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ اب ہڑتال پر چلے جائیں، عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا حساب دینا ہوگا۔