پاکستانی مردوں کی مردانگی!

تحریر:انعام الحق
عورت ذات کو اس بات کی گارنٹی نہیں دینی پڑتی کہ وہ عورت ہے،لیکن ایسا کیوں ہے کہ مردوں کو اپنی مردانگی دیکھانے کیلئے گارنٹی کیساتھ ساتھ ثبوت بھی پیش کرنا پڑتے ہیں کہ ہاں میں مرد ہوں!پاکستانی مرد دُنیا میں واحد ایسی خاص نسل کہ مرد ہیں جنہیں سب سے زیادہ خود پر شک ہوتا ہے کہ وہ مرد ہیں یا نہیں۔پھر صرف یہ ہی نہیں کہ پاکستانی مردوں کو اُنکی مردانگی پر شک ہوتا ہے بلکہ اُنہیں اپنی مردانگی دیکھانے کیلئے دوستوں اور غیروں کے سامنے کارنامے کرنا ہوتے ہیں اور یہ لازمی سمجھا جاتا ہے۔پاکستان کی اخباروں کی چھانٹی کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی مرد نے اپنی بیوی کو مار کر مردانگی دیکھائی،کسی نے اپنی بیٹی کو پسند کی شادی پر قتل کردیا،کسی نے اپنی بہن کو عزت کے نام پر قتل کر دیا،کسی نے پسند کی لڑکی کے نہ ماننے پر اُس پر تیزاب پھینک دیا،کسی نے اپنی معشوقہ کی نازیباں ویڈیو بنا کر مردانگی دیکھائی تو کسی نے اپنے دوست کی محبوبہ کر پھانس کر اپنی مردانگی دیکھائی،کسی نے معصوم بچوں پر ہاتھ اُٹھا کر مردانگی دیکھائی تو کسی نے معصوم نومولود بچوں کیساتھ زیادتی کرکے مردانگی دیکھائی،کسی نے اپنے والدین پر ظلم کرکے اُنہیں گھر سے نکال کر مردانگی دیکھائی تو کسی نے غریب کا حق کھا کر مردانگی دیکھائی،کسی نے مدرسے کے بچوں سے بدفعلی کرکے مردانگی دیکھائی،تو کسی نے ناپ تول میں بے ایمانی کرکے مردانگی دیکھائی،کسی نے بُرائی کا ساتھ دے کر مردانگی دیکھائی تو کسی نے سچ کا گلہ گھونٹ کر مردانگی دیکھائی اورگلی محلوں میں خواتین کو چھیڑ کر مردانگی دیکھانے کے واقعات تو عام ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مردوں کو اپنے مرد ہونے یا مردانگی دیکھانے کا ثبوت کیوں دینا پڑتا ہے؟میرے خیال سے یہ ہمارے بگڑے ہوئے بے ہنگم اور بے ڈھنگ معاشرے کا قصورہے۔بہت سے پڑھنے والے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ معاشرہ بھی تو ہم ہی نے بنایا ہے اور ہم سے ہی معاشرہ ہے۔گزارش یہ ہے کہ معاشرہ ہم سب نے مل کر بنایا تو ہے لیکن معاشرے کو بہتر بنانے کیلئے ہم سب تو کیا کسی ایک نے بھی کبھی کوشش نہیں کی۔ہم وہی لکیر کے فقر ہیں جو سارا دن جنگلیوں کی طرح دیکھا دیکھی زندگی گزار دیتے ہیں۔تعلیم کی کمی،دین سے دوری اور تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہمارے بچے،ہماری آنے والی نسلیں دن بدن تباہی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔جس ملک میں تعلیم دینے والوں،دین سیکھانے والوں،تربیت کرنے والوں کومردانگی دیکھانے کا شوق ہو وہاں معاشرہ کیسے سُدھرسکتا ہے؟ہر کوئی اپنے اپنے کام میں مگن ہے کبھی تھوڑا سا وقت اپنے ملک کی خاطر نکالیں اور جائزہ لیں کے روزانہ نجانے کتنے اُستاد سکولوں میں بچوں اور اُستانیوں کیساتھ زیادتی کرتے ہیں،نجانے کتنے نام نہاد مولوی مدرسوں میں بچوں کیساتھ بدفعلی کرتے ہیں،نجانے کتنے والدین بچوں کی تربیت کے نام پر اُنہیں مارتے ہیں اور بچپن سے ہی بچوں کی بُنیادی اخلاقیات کا قتل کرکے اُنہیں وحشی بنا دیتے ہیں۔یہ ہی تو بُنیاد ہے جہاں سے بچوں کا ذہن خراب ہوتا ہے اور وہ اپنے بڑوں بزرگوں کو اہمیت نہیں دیتے۔پھرمعاملہ یہاں نہیں رُک جاتا، معاشرہ بزرگوں کی تربیت پر بھی منحصر کرتاہے۔ہمارے بزرگوں نے کس معاملے میں اور کب بچوں کی تربیت کرنے کی کوشش کی؟بڑے بڑے تمام شہروں میں چلے جائیں جو حرکتیں بزرگ کرتے دیکھائی دیتے ہیں وہ نوجوان نہیں کرتے۔کیا آپکو لگتا ہے کہ ہمارے بزرگ کبھی کسی بھی بات پر ڈٹ گئے ہوں اور کہیں کہ یہ معاملہ یہاں غلط ہے؟تعلیمی نصاب سے خریدوفروخت اور ناپ تول تک کسی بھی معاملے پر بات کر لیں ہر جگہ بدنظمی اور بے ہنگم صورتحال ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے تو دُکانیں کھول کر نہیں بیٹھتے!یہ وہ بزرگ اور والدین ہی ہوتے ہیں جو کاروبار کرتے ہیں اور کاروبار میں حلال حرام کے فرق کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور صرف مردانگی دیکھاتے ہوئے پیسہ کماتے ہیں۔اسی صورتحال کا آنے والی نسلیں سامنا کر رہی ہیں اور مرد مرد کھیلنے کا معاشرہ درندے پیدا کرتا جا رہا ہے۔پاکستان میں انسان مردانگی کے نام پر ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جو جنگل کے جانور دوسرے جانوروں کیساتھ نہیں کرتے۔میں تو ایک بار پھر سوال کرتا ہوں کہ مردوں کو اپنے مرد ہونے کا ثبوت کیوں دینا پڑتا ہے؟کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرد پیدا کیا جانا کافی نہیں؟معاشرہ کون ہے جسے ہم دیکھائیں کہ دیکھو یہ کارنامہ ہم نے کیا ہے اور ہم مرد ہیں۔کیوں دِکھائیں اور کیوں کوئی بھی غلط کام کریں اور ثابت کریں کہ ہم میں مردانگی ہے اور ہم مرد ہیں!یہ مردانگی دیکھانے کانتیجہ ہے کہ آج ہر شہر،ہر گلی،ہرجگہ کوئی نہ کوئی درندہ کسی نہ کسی کو اپنی حوص کا نشانہ بنانے کیلئے موقعے کی تلاش میں ہے۔