کراچی میں رینجرز نے8پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا

کراچی﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾رینجرز نے شہر میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اسلحہ لائسنس اور دستاویزات بنانے والے گروہ کے 8 ملزم گرفتار کر لئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
کراچی میں خطرناک ملزمان کا گینگ پکڑا گیا۔ جن سے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، رینجرز اسپیشل ٹاسک سیل، ڈپٹی کمشنرز، بینکس اور یونیورسٹیز کی جعلی مہریں ملی ہیں۔ رینجرز نے لیاقت آباد میں جعلی مہریں اور جعلی اسلحہ لائسنس بنانے والے گروہ کے ملزم فیضان کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر اس گروہ کے 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
گرفتار ملزمان میں سندھ ریزرو پولیس کا اسسٹنٹ سب انسپکٹرعمردراز خان، حوالدار سید نادرعلی شاہ، اسپیشل برانچ کا حوالدار سید شاہد علی، جنید، زوہیر کمال، صدام صدیقی اور سیاسی جماعت کے عسکری ونگ کا ٹارگٹ کلر کامران پریڈی شامل ہیں۔
ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ حوالدار نادر شاہ جعلی لائسنسوں پر اسلحے کو بذریعہ ہوائی سفر خیبرپختونخوا سے کراچی منتقل کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ملزم نادر شاہ اسلحے کی ترسیل کے لیے 30 سے 35 مرتبہ ہوائی سفربھی کرچکا ہے۔
گرفتارملزمان سے سرکاری اداروں کی 131 جعلی مہریں ملی ہیں، جس میں ڈپٹی کمشنرز، وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، بینکس، یونیورسٹیز ، تعلیمی بورڈز، رینجرز اسپیشل ٹاسک سیل اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی مہریں شامل ہیں۔ رینجرز نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ میٹرک، انٹر اور گریجویشن کی 75 جعلی ڈگریاں بھی قبضے میں لے لی ہیں۔ جب کہ ملزمان کے قبضے سے جی 3، رائفل، میگزین،گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ملزمان نے سات ہزار سے آٹھ ہزار تک جعلی اسلحہ لائسنس، 3500 سے 4 ہزار تک جعلی تعلیمی اسناد ، سیکڑوں ڈرائیونگ لائسنس اور مختلف سرکاری اداروں کی دستاویزات لوگوں کو بھاری رقوم کے عوض فراہم کر نے کا انکشاف کیا ہے۔
ڈی جی رینجرز نے سندھ پولیس اور رینجرز کے افسروں کو کامیاب کارروائی پر مبارکباد دی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا۔