بھارت کے سکول میں درجنوں طالبات کو برہنہ کرنےکا حکم

نئی دلی﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کے ایک سکول میں اساتذہ نے اس وقت بے حیائی کی حد کر دی جب ہیڈ ٹیچر کے خلاف ایک قابل اعتراض تحریر سامنے آنے پر سزا کے طور پر دو جماعتوں کی 88 طالبات کو برہنہ کردیا گیا۔
خلیج ٹائمز کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پاپم پاری ضلع کے کستور با گاندھی بلیکا ودھیالہ سکول میں 23 نومبر کے روز پیش آیا۔ توہین آمیز سلوک کا نشانہ بننے والی لڑکیاں چھٹی اور ساتویں جماعت کی طالبات ہیں۔ دونوں جماعتوں کی طالبات کو سارے سکول کے سامنے برہنہ کیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق سکول میں ایک کاغذ ملا تھا جس پر ہیڈ ٹیچر اور ایک طالبہ کے بارے میں فحش الفاظ لکھے ہوئے تھے، لیکن یہ پتہ نہ چل سکا کہ یہ الفاظ کس نے لکھے تھے۔ ٹیچرز کو شبہ تھا کہ چھٹی یا ساتویں جماعت کی کسی طالبہ نے یہ کام کیا ہے۔ جب ان دو جماعتوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو کسی نے تسلیم نہ کیا کہ یہ کام کسی نے کیا ہے، جس پر دونوں جماعتوں کی تمام طالبات کو سارے سکول کے سامنے برہنہ کرکے سزا دی گئی۔