سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب سے حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ طلب کر لیا

www.dailyeuropeint.com

اسلام آباد﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے احتساب عدالت کی کورٹ ڈائری اور اس وقت کے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کررہا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حدیبیہ ریفرنس کی دستاویزات کدھر ہیں جس پر خصوصی پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے کہا کہ ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ریفرنس خارج کیا تاہم عدالت کہے تو ریفرنس کی دستاویزات فائل کردیتے ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ حدیبیہ پیپرملز سے متعلق ریفرنس کی بات جے آئی ٹی کے کس والیم میں کی گئی، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ والیم 8 میں حدیبیہ پیپرزملز ریفرنس کے بارے سفارشات دی گئی ہیں جس پر عدالت نے رجسٹرار آفس سے والیم 8 اور والیم 8 اے منگوالیا۔جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ حدیبیہ پیپرزمل کے اصل ریفرنس کی دستاویزات دیکھناچاہتے ہیں، عمران الحق کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے لیے اکنامک ریفارمز ایکٹ کا سہارا لیا گیا اور منی لانڈرنگ کے لیے جعلی فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولے گئے جب کہ ملزمان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے کارروائی روک دی گئی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کسی کوجبری طورپر باہر بھیجنا یا کسی کاعدالت سے فرارہونا مختلف چیزیں ہیں جب کہ کس کے حکم پر نواز شریف کو باہر بھیجا گیا تھا، وکیل نیب نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف کو اس وقت کے چیف ایگزیکٹو پرویزمشرف کے حکم پر باہر بھیجا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فریقین بیرون ملک کب گئے جس پر وکیل نیب کا کہنا تھا کہ دسمبر 2000 میں جلا وطن ہوئے اور نومبر 2007 میں جلا وطنی سے واپس آئے جب کہ ملزمان 2014 میں مقدمہ پر اثر انداز ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ نیب کو ریفرنس پرکتنے عرصے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب کو ایک ماہ کے اندر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ کیا کسی کے خلاف ریفرنس بنا کر اس پر ہمیشہ کے لیے تلوار لٹکائے رکھیں گے، ریفرنس کو طویل عرصہ تک زیر التواء نہیں رکھا جا سکتا، آپ سمجھتے ہیں ہم اپیل پر ابھی حکم جاری کر دیں گے۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ حدیبیہ کا ریفرنس کہاں ہے، جس پر وکیل نیب کا کہنا تھا کہ پاناما کے مقدمہ کے بعد اپیل دائر کی۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ حدیبیہ ریفرنس پر دلائل دیں، نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ حدیبیہ ریفرنس پر میری مکمل تیاری نہیں ہے تاہم حدیبیہ پیپر ملز 1999 تک خسارے میں چل رہی تھی،اس وقت کمپنی کے ڈائریکٹرز کے پاس بہت بڑی رقم تھی۔
سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے احتساب عدالت کی کورٹ ڈائری اور اس وقت کے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار بھی طلب کرلیا۔ عدالت نے نیب کی جانب سے دستاویزات پیش کرنے کے لئے 4 ہفتوں کی مہلت کی استدعا مسترد کردی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں سنجیدگی دکھائیں، سپریم کورٹ نے خاص بینچ بنایاہے، کیا نیب ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ وکیل نیب نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے ایساہی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11دسمبر تک ملتوی کردی۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف، بیٹی مریم نواز اورداماد کیپٹن (ر) صفدرحسین عزیزیہ، فلیگ شپ، ایون فیلڈ پراپرٹیزکے حوالے سے دائرنیب ریفرینسزکی سماعت کے لیے احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی عدم پیشی پرمعاون وکیل کی جانب سے آج کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی۔
درخواست میں موقف اختیارکیا گیا کہ تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست پرہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کنفیوژن سے بچنے کیلئے مختصرحکم نہیں دیا، جس کے باعث کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی جائے، جس پرنیب پراسیکیوٹر کی جانب سے اعتراض کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری نہیں کیا۔ وکیل کیپٹن (ر) صفدرکی جانب سے کہا گیا کہ امید ہے ہائیکورٹ اسی ہفتے فیصلہ سنا دے گی، اگرتاخیر ہوئی تو اگلے ہفتے تین دن لگا تار کیس کی سماعت رکھ لی جائے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب عدالت نے حکم امتناع نہیں دیا تو کیس ملتوی نہیں کیا جا سکتا جب کہ عدالت نے فیصلہ سنانے کا مخصوص وقت نہیں بتایا۔نیب جج محمد بشیرنے استفسارکیا کہ وکیل خواجہ حارث کہاں ہیں، جس پر معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف ہیں اورسماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی اصل وجہ خواجہ حارث کی مصروفیت ہے۔ نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ کب فیصلہ سنائیں گے، ہو سکتا ہے دو ماہ میں بھی فیصلہ نہ آئے۔ جج نے استفسارکیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز میں ایک فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی ہے، جس پرمعاون وکیل نے کہا کہ ہم نے متبادل استدعا بھی کی ہے کہ کم از کم دو ریفرنسز ہی یکجا کر دیئے جائیں۔
جج محمد بشیر نے استفسارکیا کہ پھرہم پیرکو ایک اورگواہ بھی بلا لیتے ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ پہلے بلائے گئے گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے دیں، معاون وکیل نے کہا کہ ان کے پاس گواہ ہی ختم ہوگئے ہیں، تفتیشی افسرکے سوا کوئی مرکزی گواہ نہیں، جس کے بعد عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیشی پراحتساب عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کی بھاریہ نفری بھی تعینات کی گئی تھی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جوڈیشل کمپلیکس میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔