داﺅد ابراہیم کے اکلوتے بیٹے نے ساتھ چھوڑ دیا، دین کی راہ اختیار کر لی

نئی دہلی﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾داﺅد ابراہیم کا نام آج بھی پورے بھارت میں خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور بھارتی حکومت اور سکیورٹی فورسز تمام تر کوشش کے باوجود ان کا سراغ نہیں لگا سکیں۔ تاہم اب ان کے بیٹے کے متعلق ایک ایسا دعویٰ منظرعام پر آ گیا ہے جس نے پورے بھارت کو حیران کر دیا ہے۔ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق داﺅد ابراہیم کے بیٹے کا نام معین نواز ہے اور اس کی عمر 31سال ہے۔ داﺅد کی اولاد میں معین تیسرے نمبر پر اور اکلوتا بیٹا ہے۔ آج تک داﺅد ابراہیم کو کوئی ایسی مشکل درپیش نہیں آئی جو اس کی طاقت میں رکاوٹ بن سکے لیکن معین نواز اس وقت ان کا سب سے بڑا دردسر بن چکا ہے کہ بھارتی پولیس کے دعوے کے مطابق اس نے باپ کا ناجائز کاروبار سنبھالنے سے یکسر انکار کر دیا ہے اور اپنے لیے مذہبی راستہ اختیار کر رکھا ہے۔“
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ”معین نواز مولانا یا کوئی مذہبی ٹیچر بننا چاہتا ہے اور اپنے باپ کے کاروبارغیرقانونی سرگرمیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔“ رپورٹ کے مطابق یہ معلومات پولیس کو داﺅد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکرنے دی ہیں جسے گزشتہ ماہ بھتہ خوری کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔اقبال کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق معین نے گزشتہ چند سالوں سے خود کو خاندان اور اپنے باپ کے کاروبار سے الگ کر رکھا ہے۔ اس کا رجحان بہت زیادہ مذہب کی طرف ہے۔ اس نے قرآن مجید حفظ کر رکھا ہے اور اب وہ ایک کوالیفائیڈ مولانا بن چکا ہے۔ اس نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع اپنے پرآسائش بنگلے میں رہائش بھی ترک کر دی ہے اور اب وہ اسی علاقے کی ایک مسجد میں رہتا ہے۔“