اسرائیلی نائب وزیر خارجہ کی امریکی یہودیوں پر سخت تنقید

نیوز ڈیسک﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنی حکومت میں شامل نائب وزیرخارجہ زیپی حوتوفلی کے ایک بیان کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس بیان میں مسز فلی نے امریکی یہودیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الزام عاید کیا کہ وہ اسرائیل کو درپیش خطرات سے بے خبر اور بے پرواہ ہیں۔انگریزی میں نشریات پیش کرنے والے ’آئی 24 نیوز‘ چینل کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مسز زیپی حوٹوفلی نے امریکی یہودیوں اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے خلاء پر کھل کر بات کی۔
حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کی کسی خاتون رکن اور رہ نما کا اس بے باکی کے ساتھ بات کرنا حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں ہم اسکول کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے کہ قومی یہودی وطن کے بغیر کوئی بھی یہودی کیسے رہ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا میں یہودی رہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنے ملک [اسرائیل] کے دفاع کے لیے لڑائی میں نہیں بھیجتے۔ایک سوال کے جواب میں حوٹوفلی نے کہا کہ امریکی یہودی امریکا میں فوج میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ امریکی میرینز میں بھرتی ہوتے ہیں۔ افغانستان اور عراق کے محاذوں پر بھی لڑتے ہیں۔
مگر وہ بے خوف اور پرامن زندگی گذار رہے ہیں۔ انہیں اسرائیل میں رہنے والے یہودیوں کو فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے خوف کا کوئی احساس اور شعور نہیں۔دوسری جانب وزیراعظم نیتن یاھو نے اپنی نائب وزیر خارجہ کے بیان کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل میں وزارت خارجہ کا عہدہ بھی وزیراعظم یاھو ہی کے پاس ہے۔ اس لیے زیپی حوٹوفلی براہ راست ان کی نائب بھی ہیں۔
ایک بیان میں نیتن یاھو نے کہا کہ موجودہ حالات اس طرح کی باتیں کرنے کے لیے مناسب نہیں۔ حوٹوفلی کا موقف اسرائیل کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکا میں کلیدی عہدوں پر یہودی تعینات ہیں۔ امریکی بری فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ لی گولڈ فائن یہودی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور یہودی امریکا میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں۔امریکا میں مقیم یہودیوں کی تعداد دو لاکھ سے زاید ہے۔ یہودی نوجوانوں کی خاطر خواہ تعداد فوج میں بھی خدمات انجام دیتی ہے۔