ابوظہبی کے مسلمان شیخ نے نوعمر لڑکی کے کنوارےپن کی قیمت3ملین ڈالر لگا دی

نیویارک﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾مغربی معاشرے میں جسم فروشی کو تو پہلے بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن حالیہ کچھ عرصے سے نوعمر لڑکیوں نے اپنا کنوارہ پن بیچنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں ڈالر کے بزنس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ کنواری لڑکیوں کے خریدار یوں تو ساری دنیا سے آتے ہیں لیکن عرب ممالک سے آنے والے مالدار شیوخ اکثر سب پر سبقت لے جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ نوعمر امریکی ماڈل گزیل کے کنوار پن کی فروخت کے موقع پر پیش آیا ہے۔
دی میٹرو کے مطابق 19 سالہ گزیل نے اپنا کنوارہ پن فروخت کے لئے پیش کیا تو بولی میں حصہ لینے والوں کی تعداد سینکڑوں میں جا پہنچی۔ ان میں تین نمایاں ترین دولتمند افراد کا تعلق روس، امریکا اور ابوظہبی سے تھا۔ روسی شخص ایک طاقتور سیاستدان ہے، جبکہ امریکی ایک مالدار اداکار ہے، البتہ عربی شیخ کے سامنے کسی کا بس نا چلا۔ اس نے گزیل کے کنوار پن کے لئے سب سے زیادہ بولی 30 لاکھ ڈالر دے کر سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔
امریکی ماڈل نے اپنے کنوار پن کی نیلامی ’سنڈریلا ایسکارٹس‘ نامی ایجنسی کے ذریعے کی۔ یہ ایجنسی اس سے پہلے بھی درجنوں کنواری لڑکیوں کی عزت لاکھوں ڈالر میں نیلام کروا چکی ہے۔گزیل اور عربی شیخ کے لئے جرمنی کے ایک ہوٹل میں بکنگ کروا دی گئی ہے جہاں وہ ایک رات اکٹھے گزاریں گے۔ ایجنسی کا سکیورٹی سٹاف احتیاط کے پیش نظر ساری رات ان کے کمرے کے باہر موجود رہے گا۔