اوورسیز پاکستانی لڑکی اپنے والد کی تلاش میں

لندن﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾ 26 سالہ لڑکی کا تعلق یورپی ملک مالدووا سے ہے اور اس کا نام یاسمینا ڈیرے جووز کایا ہے۔ یاسمینا نے اپنی اپیل میں لکھا ہے ”مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے، میں ایک بہت اہم شخص کی تلاش میں ہوں۔ میں نے اپنے والد کو آج تک نہیں دیکھا اور اب میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔ وہ پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھتے ہیں اور خصوصاً اس شہر والوں سے اپیل ہے کہ انہیں ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ پشاور میں ہی ہیں۔
وہ 80ءکی دہائی میں مالدووا میں پڑھنے کیلئے آئے تھے جہاں ان کی ملاقات میری والدہ سے ہوئی اور 1990ءمیں انہوں نے شادی کی۔ میری پیدائش جنوری 1991ءمیں ہوئی۔ اسی سال اگست کے مہینے میں وہ پاکستان واپس چلے گئے۔ وہ میری والدہ سے واپس آنے کا وعدہ کرکے گئے تھے لیکن پھر کبھی نہیں لوٹے۔“یاسمینا آج کل برطانیہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے مالدووا کی اکیڈمی آف اکنامکس سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔یاسمینا نے اپنے والد کی ایک تصویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے، جس میں وہ اپنی ننھی بیٹی کو گود میں اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ یاسمینا والد کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ”میں بچپن سے ہی اپنے والد کی صورت دیکھنے کو ترستی رہی ہوں۔ میں اپنی ہر سالگرہ کے دن ان کا انتظار کرتی ہوں اور تصور ہی تصور میں ان سے ملاقات کرکے خوش ہوتی ہوں۔اگلے سال میری شادی ہے اور میری شدید خواہش ہے کہ وہ میری شادی کے دن میرے پاس ہوں۔“