پاکستان کی خاتون پیراگلائیڈر”عمارہ کرن” سے خصوصی انٹرویو

انٹرویو: احسن بلال باجوہ
ہزاروں فٹ کی بلندی سے ہوامیں اُڑان بھرنااورپیراگلائیڈنگ کرتے ہوئے فضاؤں میں اُڑنایقیناً ایک پُرلطف ایڈونچرہے۔ آج آپ کی ملاقات ایک ایسی ہی خاتون سے کرواتے ہیں جو کہ پاکستان کی پہلی خاتون پیراگلائیڈراورواحدخاتون پیراگلائیڈنگ پائلٹ انسٹرکٹرہیں۔عمارہ کرن ایک باہمت خاتون ہیں جنہوں نے اپنے ڈر کو ختم کرنے کے ساتھ،ساتھ معاشرے کی تلخیوں کا بھی دیدہ دلیری سے سامناکیا اور پیراگلائیڈنگ کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ عمارہ کرن ناصرف پیراگلائیڈنگ میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ گُھڑسواری،بائیک را ئڈنگ،گَن شوٹنگ،کلف ڈائیڈنگ،تیراندازی، نیزہ بازی، نشانہ بازی سمیت دیگرکھیلوں میں بھی مہارت کی حامل ہیں۔گزشتہ دِنوں عمارہ کرن سے ایک طویل نشست ہوئی،جس میں ان کی زندگی اور پیراگلائیڈنگ کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی جو نظرِ قارئین ہے۔

حقیقی زندگی ہمارے معاشرے میں بلخصوص عورت کیلئے انتہائی مشکل ہوتی ہے اور پھر عمارہ کرن جیسی خاتون بھی اسی مشکل میں مبتلاء رہیں دورانِ انٹرویو عمارہ کرن نے اپنے ابتدائی سفرکاذکرکرتے ہوئے بتایاکہ جب دس سال پہلے پیراگلائیڈنگ کے میدان میں قدم رکھاتوکئی قسم کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا مثلاََ کہا جاتا تھا کہ میں زیادہ تر مردوں میں رہ کرکام کرتی ہوں، انگریزوں جیسے کپڑے پہنتی ہو ںاوراسی طرح کی عجیب باتیں سننے کو ملتی تھیں،لیکن میں نے ان سب باتوں کااورمعاشرتی عناصر کابہادری سے سامناکیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان سب چیزوں کونظراندازکرتے ہوئے اپنے مقصدکی طرف آگے بڑھتی چلی گئی اورمعاشرے میں اپنامقام خودحاصل کیا۔

پیراگلائڈنگ کو﴿GAME OF DEATH﴾ بھی کہاجاتاہے، عمارہ کرن۔

انھوں نے عورتوں میں پیراگلائیڈنگ اورایڈونچرزکے رحجان پر زور دیا اور عصرحاضرمیں درپیش مسائل کاذکرکرتے ہوئے عمارہ کرن نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی کسی بھی شعبہ میں حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اورعمومی تأثر ہے کہ عورتوں کاکام گھرداری کرنا یابچے سنبھالناہے ، گھر داری کرنا اور تمام امور خانہ بھی بہرحال ضروری ہیں لیکن اس طرح کی صحت مندسرگرمیاں بھی عورتوں کے لئے اُتنی ہی ضروری ہیں جتنی کے مردوں کے لئے۔ ہمیں چاہئے کہ عورتوں کی بھی ہرشعبہ ٔ حیات میں حوصلہ افزائی کریں اگرچہ وہ پیراگلائیڈنگ ہویاکوئی اورصحت مندسرگرمی ۔
ان کا مزیدکہناتھاکہ انہی صحت مندسرگرمیوں کے لئے میں نے اپنی مددآپ کے تحت ایک پیراگلائیڈنگ اورایڈونچرکلب کی بنیادرکھی ہے۔ جس کا نام ’’سکائی ہاکس پیراگلائیڈنگ کلب‘‘ ہے اس میں ملک بھرکے نوجوانوں کو ہوامیں تیراکی، نیزہ بازی، نشانہ بازی سمیت دیگرکھیلوں میں تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ سکائی ہاکس پیراگلائیڈنگ کلب نے اپنی مددآپ کے تحت کراچی ، اسلام آباداوربلوچستان کے متفرق علاقہ جات میں پروگرامزمنعقدکئے جن کامقصدتفریح فراہم کرنے کیساتھ ساتھ صحت مندسرگرمیوں کاانعقادکرنا تھا تاکہ ہم پُرسکون ماحول میں اپنی صلاحیتوںکابھرپورمظاہرہ کرسکیں۔ ان کامزیدکہناتھاکہ سکائی ہاکس پیراگلائیڈنگ کلب میں مایہ نازانسٹرکٹرزکی موجودگی میں تربیت دی جاتی ہے ۔ ہمارے کلب میں متفرق شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے مزاج کے مطابق تفریح کرنے اورصحت مندسرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے آتے ہیں۔ پیراگلائیڈنگ اورمتعددایڈونچرزکی تربیت کے لئے بہت وقت درکارہوتاہے کیونکہ اسے (Game Of Death)یعنی موت کاکھیل بھی کہاجاتاہے۔ اس لئے قدم بقدم تربیت دی جاتی ہے کیونکہ بظاہرآسان نظرآنے والاشوق خطرے سے خالی نہیں ۔ ماضی میں لوگ اس کھیل میں حصہ لینے سے کتراتے تھے مگراب ٹریننگ اورشعورکی وجہ سے ملک بھرمیں اس کھیل کوسراہا جارہاہے اور اسی لئے اس کھیل کو کوفروغ بھی مل رہاہے۔
انہوں نے اپنی زندگی کاایک دلچسپ واقعہ بھی ہمیں سُنایا ، کہ ایک دفعہ میں نے تربیلہ سے اُڑان بھری اورہواکے رُخ کاتعین کرنے میں ناکام ہوئی اور ہوامیں ٹربولینڈکی وجہ سے ایسامحسوس ہورہاتھاکہ لینڈنگ آج بہت مشکل ہی ہوگی ، ونگزہوامیں سیدھے نہیں ہورہے تھے اورمیں مسلسل ہوامیں ہچگولے کھارہی تھی۔ اس دوران میں مسلسل آیت الکرسی کاوردکررہی تھی .بہرحال اللہ کے کرم سے کامیاب لینڈنگ ہوگئی ۔

پیراگلائیڈنگ کے شعبہ کی حکومت سرپرستی کرے، عمارہ کرن۔


عمارہ کرن کی بیٹیاں دعا اورلاریب کم عمرترین پیراگلائیڈرزہیں جنہوں نے ساڑھے تین سال کی عمرمیں پیراگلائیڈنگ کاآغازکیا۔ اُن کی بیٹیوںکی کامیابیوں بارے اُن کاکہناتھاکہ میں بہت خوش قسمت ہوںکہ میری بیٹیاں عالمی سطح پرملک کا نام روشن کررہی ہیںاورآئندہ آنے والے وقت کے لئے بہت پُرعزم ہوںکہ کامیابیوں کاتسلسل اسی طرح برقراررہے گا، انشاء اللہ
پاکستانی حوصلہ مند خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوںکہ اب اس کھیل میں خواتین بھی آئیںاوراسے پاکستان میں فروغ دیںکیونکہ پاکستانی خواتین کے حوصلے بہت بلندہیں اورملک کانام روشن کرنے کے لئے پاکستان کی خواتین بھی کوشاں رہتیں ہیں۔
انہوںنے حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ قومی سطح پرپیراگلائیڈنگ کے شعبہ کی سرپرستی کی جائے تاکہ ملک بھرمیں تفریح اورسیاحت کوفروغ ملے جس سے ملک میں کثیرزرمبادلہ آسکتاہے۔

میں چاہتی ہوں کہ اب اس کھیل میں اورخواتین بھی آئیں اوراسے پاکستان میں فروغ دیں، عمارہ کرن۔

دورانِ انٹرویو نمائندہ “روزنامہ یورپ انٹرنیشنل” احسن بلال باجوہ سے بات کرتے ہوئے