سگہے بہن بھائی کی شادی کروادی گئی،ضعیف العتقادی کی انتہاء

بنکاک﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾اور اگر اس جنم میں بھی انہیں اکٹھا نہ کیا گیا تو ان میں سے کسی ایک کو ناگہانی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ قدیم روایات کے مطابق جڑواں بہن بھائی دراصل ایک ہونے کی تمنا دل میں لئے دنیا سے رخصت ہوجانے والے جوڑے ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں دوسرے جنم میں ایک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ننھے بچوں کی شادی کے موقع پر دولہا بنائے گئے بچے نے اپنی جڑواں بہن اور دلہن کو 22ہزار تھائی بھات (تقریباً 70 ہزار پاکستانی روپے) کی رقم اور 30.5 گرام سونے کا تحفہ بھی دیا۔ وائست شائے شرن نامی شہر کے نواحی علاقے میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی کیونکہ بدقسمتی سے وہ سب ہی اس نوعیت کی شادیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ضعیف العتقادی دنیا بھر میں عام ہے ۔ اس بات کا انداز اس چیز سے لگایا جاسکتاہے کہ بنکاک میں دو سگے بہن بھائیوں کی شادی کروادی گئی ۔ ان بچوں کے نام تیکا تات اور تاویسا ہیں اور ان کی شادی کا اہتمام کرنے والے ان کے والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ جنم میں یہ دونوں ایک محبت کرنے والا جوڑا تھے، جو اس جنم میں ان کے ہاں جڑواں بچوں کی صورت میں پیدا ہوگئے ہیں، لہٰذا انہیں آخر کار یکجا کرنے کے لئے ان کی شادی کردی ہے۔ ضعیف الاعتقاد والدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ جنم میں یہ کسی المیے کی وجہ سے ایک نہ ہوسکے