جے آئی ٹی کی تحقیق کو55دن گزرگئے،ہم پر الزام کیا ہے؟شریف فیملی کا سوال

اسلام آباد(روزنامہ یورپ انٹرنیشنل)جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی مسلسل55روزہ تفتیش کے بعد بھی حکمران خاندان سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس پر الزام کس بات کا ہے اور تحقیقات کس لئے ہورہی ہیں؟۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف ان کے دونوں صاحبزادے جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد عوام کو بتایا کہ جے آئی ٹی ممبران کے سوالوں کا جواب دینے کے بعد میں نے ان سے سوال کیا کہ مجھ پر الزام کیا ہے کیا پانامہ پیپرز میں میرا نام شامل ہے ؟ ۔ وزیر اعظم کے بقول جے آئی ٹی والے جواب نہیں دے سکے ۔ 5جولائی کو مریم نواز نے اپنی پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر یہی سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی والے یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے؟مریم نواز کا کہنا ہے کہ دنیا کی واحد جے آئی ٹی ہے جو اس لئے تحقیقات کر رہی ہے کہ حکمران خاندان پر الزام لگایا جاسکے۔حالانکہ جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا مینڈیٹ بالکل واضح ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے سراغ لگایا جائے کہ لندن کے مبینہ مےئر فلیٹس کس دولت سے خریدے گئے اورکب خریدے گئے۔دوبئی سٹیل ملز کا پیسہ کیسے قطر گیا اور قطری شہزادے کے ساتھ کاروبار کب سے ہے؟۔سپریم کورٹ نے حکمران خاندان سے تحقیقات کیلئے13سوالات جے آئی ٹی کو دئیے تھے اور جے آئی ٹی اب تک اپنی تفتیش انہی13سوالوں کے اِردگرد ہی کر رہی ہے۔ مریم نواز کا نام جن کمپنیوں کے ساتھ جوڑا گیا تھا انہیں ثابت کرنا ہے کہ ان کا ان سے تعلق نہیں ہے۔ جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز 6بار،حسن نواز3بار،وزیراعظم میاں نوازشریف،وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرخزانہ اسحاق ڈارایک ایک بار پیش ہوچکے ہیں۔وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو دوبار جے آئی ٹی طلب کرچکی ہے جبکہ وزیراعظم کے داماد کیپٹن صفدر کو بھی ایک بار بلایا جاچکا ہے۔ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ خاندان کے اہم ترین افراد کی جے آئی ٹی میں پیشی کے باوجود پورا خاندان کہہ رہا ہے کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ہم پر الزام کیا ہے؟جبکہ حسین نواز کا کہنا ہے کہ ہم سے منی ٹریل پوچھنے والے پہلے عمران خان کی منی ٹریل کا سراغ لگائیں۔درحقیقت حکمران خاندان پر سب سے مرکزی الزام منی ٹریل کا ہی ہے اور حکمران خاندان منی ٹریل کو چھپانے کیلئے قطری شہزادے کی چھتری بھی لے چکا ہے۔دو ممبران جے آئی ٹی قطری شہزادے سے پوچھ گچھ کیلئے دوحہ جاچکے ہیں،ہوسکتا ہے کہ قطری شہزادہ بھی تمام تفتیش کے بعد یہی کہہ دے کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھ پر الزام کس بات کا ہے؟ جبکہ الزام چودھویں کے چاند کی مانند روشن ہے۔جے آئی ٹی کے پاس اب5 دن باقی بچے ہیں اور10جولائی کو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونے جارہی ہے۔یقیناً جے آئی ٹی سپریم کورٹ میں یہ رپورٹ جمع کروانے والی نہیں ہے کہ60دن کی تفتیش کے بعد بھی شریف خاندان کو الزام کی سمجھ نہیں آسکی لہٰذا عدالت الزام کی حقیقت سمجھانے کیلئے مزید وقت دے۔جے آئی ٹی عدالت میں 60دن کی رپورٹ پیش کردے گی اور پھر عدالت کے ذریعے سب کچھ سامنے آئے گا کہ جے آئی ٹی کے باہر کھڑے ہوکر باتیں کرنے والے جے آئی ٹی کے اندر کیا کیا انکشافات کرکے آئے