افسانہ ۔ یہ قربتیں یہ فاصلے

افسانہ ۔ یہ قربتیں یہ فاصلے
ذکیہ صدیقی، ٹیکساس، امریکہ

گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نور محل گئی ہوں ، موسلا دھار بارش ہو رہی ہے ، میں تانگہ صدر دروازے کے سامنے رکوا لیتی ہوں، دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن مایوس ہو جاتی ہوں ، اس انوکھی بات پر حیران ہوتی ہوں یہ تو کبھی بند نہیں ہوتا تھا ، آج ایسا کیوں ہے؟ میں پریشان کھوئی کھوئی سی پچھلی طرف جاتی ہوں اور چھوٹا سا زینہ طے کرکے اس جگہ تک پہنچ جاتی ہوں جہاں سے راستہ زنان خانے کو جاتا ہے۔ میں آہستہ سے دروازے کودھکا دیتی ہوں، دروازہ کھل جاتا ہے ، اندر داخل ہوتی ہوں، یہاں ایک بھیانک سناٹا میرا استقبال کرتا ہے۔ میں ڈری سہمی سی ہر طرف نظریں دوڑاتی ہوں لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آتا ، پھر میں یہاں سے گزرتی ہوئی بڑے کمرے کی طرف بڑھتی ہوں مگر یہاں بھی سناٹا ہے ، ‘ یا الله یہ سب لوگ کہاں چلے گئے۔ کس قدرتنہائی ہے کیسی خاموشی ہے۔’
بارش کی مسلسل آواز کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ میں پریشان ہو جاتی ہوں ، اور بڑے بڑے دالان صحن، راہداریاں عبور کرکے مردانے حصّے میں پہنچ جاتی ہوں لیکن وہاں بھی کوئی نہیں ہے۔ میں تیزی سے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتی ہوں ، خوبصورت جنگلے والی کھڑکی کی طرف آتی ہوں اس سےباہر دیکھتی ہوں لیکن دور دور تک کوئی متنفس نظر نہیں آ تا۔۔۔۔۔ اور آخر کار میں ایک جگہ بیٹھ جاتی ہوں اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام کر رونے لگتی ہوں۔۔۔۔۔ اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میرا تکیہ آنسوؤں سے تر تھا ، خواب کا ذہن پر شدید اثر تھا۔ میں نے پھر آنکھیں بند کر لیں اور اسی دنیا میں پہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔ کاش میں وہیں پہنچ جاؤں۔ وہی نور محل جہاں میں نے آنکھ کھولی ، جہاں گھٹنیوں چلنا سیکھا ، جہاں ہوش سنبھا لا، جہاں اپنے بچپن کا حسین زمانہ، بھائی بہن ، سہیلیوں کے ساتھ گزارا مجھے سب کچھ ایک خواب کی طرح یاد ہے لیکن اس خواب کی طرح اس خواب کا طلسم بھی ٹوٹ گیا اور میں رونے لگی۔
یہ خواب مجھ سے کیوں چھن جاتے ہیں، میں ان خوابوں کی دنیا میں رہنا چاہتی ہوں ، میں وہاں کیوں نہیں پہنچ سکتی۔
امی ، آپ کیوں رو رہی ہیں؟ میں ننھی رومی کی آواز پر چونکی، ‘ اف، اتنی دیر ہو گئی ، بچوں کو سکول کے لئے تیار کرنا ہے۔’ میں جلدی سے گھبرا کر آنسو پونچھتی ہوئی اٹھ گئی اور رومی مجھے حیران نظروں سے دیکھتی رہ گئی۔
میں سارا دن الجھی الجھی سی رہی ، رات کے خواب نے میرے دل و دماغ کو جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔ میں گھڑی کی چوتھائی میں وہاں پہنچ جانا چاہتی تھی لیکن میں مجبور تھی میں وہاں نہیں جا سکتی تھی اور مستقبل میں بھی امید کی کوئی ایسی کرن نظر نہیں آتی تھی۔
شام کوچاۓ پیتےہوئے آصف نے کہا؛ ”کیا بات ہے سیمی تم آج اتنی اداس کیوں ہو؟
میرے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے میں ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ آصف مجھے تسلیاں دیتے رہے۔
”سیمی، مجھے بتاؤ تو تمہیں کیا دکھ ہے؟۔۔۔۔ اور میں نے ہچکیوں کے درمیان کہا۔
”میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں نور محل گئی ہوں آصف ، میں زندگی میں ایک بار صرف ایک بار نور محل جانا چاہتی ہوں۔”
آصف نے مجھے تھپتھپایا، ” تم فکر نہ کرو میں تمہیں ضرور لے کر جاؤں گا۔ ” ان کے لہجے میں عزم تھا۔
میں نے روتےہوئے کہا۔ ” مگر میں وہاں کیسے جا سکتی ہوں آصف؟”
آصف نے مدھم لہجے میں جواب دیا؛ ”تمہارے یہ آنسو رائگاں نہیں جائیں گے ، مجھے یقین ہے ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، تم اپنے نور محل ضرور جاؤ گی۔”
مجھے معلوم تھا یہ سب بہلاوے ہیں ، میں کبھی وہاں نہ جا سکون گی۔ میرے دل کا زخم جو پھر ہرا ہو گیا تھا دوبارہ بہت آہستگی سے مندمل ہونے لگا۔ وہ خواب میرے دل و دماغ پر شدّت سے چھایا ہوا تھا اور آصف کی پرعزم باتیں مجھے یقین کی سرحد تک لے جاتی تھیں۔ میں جانتی تھی آصف جس بات کا ارادہ کر لیں اس کو ضرور پورا کرتے ہیں۔
کچھ وقت امید و یاس کی کشمکش میں گزرا ،اور پھر ایک دن۔۔۔۔۔۔ آصف نے مجھے خوشخبری سنائی؛
”میں بہت جلد تمہاری خواہش پوری کر دوں گا۔ ”
ایک نئی صبح طلوع ہو چکی تھی۔
اور اب ایک خوشگوار سمجھوتے کے تحت ہمارا وہاں جانا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ آصف نے لمبی سانس لی۔۔۔۔ اور ہم لوگ ہرے بھرے کھیت دریا پہاڑ ندی نالے پار کرتےہوئے ایک ہزار میل کا سفر طے کرکے اب اس علاقے میں داخل ہو رہے تھے جس سے بے شمار یادیں وابستہ تھیں۔ چھوٹی چھوٹی سرخ پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جن پر کہیں کہیں سبزہ اور جھاڑیاں تھیں ، ہم دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ ان کے لئے سرخ پہاڑیاں ایک انوکھی چیز تھیں اور میں دم بخود بیٹھی تھی۔ دکھ اور خوشی کے جذبات نے میری زبان بند کر دی تھی۔
اب ہم شہر میں داخل ہو رہے تھے ، کہیں کہیں اکا دکّا مکان اور راہگیر نظر آ رہے تھے ، یہ جانی پہچانی جگہیں دل میں ایک ہلچل مچا رہی تھیں اور میری آنکھوں سے آنسو ڈھلک کر گالوں پر آ رہے تھے جن کو ضبط کرنے کی انتہائی کوشش کے بعد بھی ناکام رہی تھی۔ کتنے ہی تال تالیوں ، عمارتوں، مسجدوں، قبرستانوں سے ہوتی ہوئی اب ہماری کار سلطانیہ روڈ سےمڑ کر نور محل روڈ پرپہنچ گئی تھی اور میرےآنسوؤں کی جگہ دبی دبی سسکیوں نے لے لی تھی-
کار ایک جھٹکے سے رک گئی۔ آصف نے کار کا دروازہ کھول کر کہا؛
” سیمی نور محل آ گیا اترو گی نہیں؟ ”
اور میں نے چونک کر سر اٹھایا ، وہی شان و شوکت ، وہی بڑا سا دروازہ جس میں سے ہاتھی گزر جایا کرتا تھا۔ اس کے دونوں طرف در اور قد آور محرابیں۔۔۔۔۔ میں کھوئی کھوئی سی خواب سے حقیقت کا موازنہ کر رہی تھی ، آصف کی آواز نے پھر مجھے چونکایا۔
” سیمی ، اندر نہیں چلو گی؟ ”
اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل دی ، صدر دروازے سے داخل ہوکر چند سیڑھیوں کا زینہ طے کرکے مردانے حصّے کے لان میں پہنچ گئی ، وہاں پہنچ کر دل کو ایک دھکّا سا لگا۔ ‘ اف،کس قدراجاڑ ہو گیا ہے۔۔۔۔ سبزہ نام کو نہیں ، میں جلدی جلدی چاروں طرف نظر دوڑانے لگی۔ وہ امرود، لیموں اور انجیر کےپیڑ کہاں گئے ، وہ ایک کونے میں لگا ہوا پیپل کا سایہ دار درخت کہاں ہے۔۔۔۔؟ جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر میں اور بھیا گھنٹوں کھیلا کرتے تھے۔۔۔۔ کیا میں اسی اجڑے ہوئے نور محل کے لئے تڑپ رہی تھی۔
دو تین عورتیں اور بچے کمرے سے نکل آ ۓ اور مجھے حیرت سے دیکھنے لگے۔ ان کی نگا ہوں میں تجسّس تھا ، میں نے ان سے کہا، کیا میں اندر کمروں میں جا سکتی ہوں؟ انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی۔ میں جلدی جلدی ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتی رہی لیکن کہیں بھی تو کوئی اپنایت نظر نہیں آئی جس کی میں متلاشی تھی۔ وو آبنوس کے کٹاؤ دار بھاری بھرکم صوفے کہاں گئے ، نہ وہ قالین ہیں نہ مسہریاں ، کہیں چٹائی ، کہیں کوئی جھلنگا سی چارپائی ہے۔ میرے دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ میں یہاں کہاں آ گئی ، پھر میں جلدی سے اپنی پسندیدہ خوبصورت جنگلے والی بڑی کھڑکی کی طرف گئی جہاں کبھی میں اور بھیا صابن کے بلبلے بنا کر اڑایا کرتے تھے ، مجھے امید تھی کے اس کھڑکی میں مجھے ضرور اپنے ماضی کا عکس نظر آ جاۓ گا لیکن وہاں بھی ٹاٹ کا ایک بوسیدہ پردہ میرا منہ چڑا رہا تھا۔ میرا سر گھوم گیا اور میں پاس پڑی ہوئی چارپائی پر دھم سے بیٹھ گئی ، میں خاموش تھی۔ مجھ میں نہ بولنے ک طاقت تھی نہ اٹھنے کی۔ کتنی ہی دیر ایسے ہی گزر گئی۔ بیچارے بچے سہمے سہمے کھڑ ے مجھے دیکھتے رہے۔
عظمی نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا؛
” امی ، یہاں سے چلئے آپ یہاں آ کر بہت اداس ہو گئی ہیں۔ ” اور اس نے میرا بازو پکڑ کر اٹھایا لیکن میں یہاں سے جانا بھی نہیں چاہتی تھی، میں نے بمشکل جواب دیا۔
” بیٹی مجھے پورا گھر تو دیکھ لینے دو ، میں ابھی نہیں جاؤں گی۔ ”
اور میں آہستہ آھستہ برآمدے سے گزرتی ہوئی ایک لمبی راہداری میں آ گئی۔ پھر میں ایک بڑے دروازے سے زنان خانے میں داخل ہوئی۔ یہاں بھی کوئی خوشی میرا استقبال نہ کر سکی۔ وہ صحن ، بڑے بڑے محراب دار دالان . لحیم شحیم کمرے ، کچھ بھی تو نہ رہ گیا تھا۔ ان سب کو چھو ٹی چھو ٹی دیواریں کھڑی کرکے کئی حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ میری نظریں تو ان ہی کمروں کو ڈھونڈھ رہی تھیں جس میں بڑی بڑی الماریاں اور مسہریاں تھیں ، دالانوں کے بڑے تخت کہاں گئے جہاں دادی اماں پاںدان لئے گاؤ تکئے سے ٹیک لگا کر بیٹھا کرتی تھیں۔ آج وہ ان کے چھالیہ کترنے کی مانوس آواز کیوں نہیں آ رہی ہے ، گھٹن اور اجنبیت کا احساس شدّت سے ہو رہا تھا۔ یہ منظر دیکھنے کی دل میں تاب نہیں تھی۔ آنسوؤں کا سیلاب جو کچھ دیر کو تھم گیا تھا پھر سارے بندھن تو ڑ کربہہ نکلا اور میں ایک چارپائی پر بیٹھ کر ہچکیوں سے رونے لگی۔ کتنی دیر تک روتی رہی اور میرے ارد گرد کیا ہوتا رہا مجھے کچھ خبر نہیں۔
کسی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔ میرے لئے عجیب بات تھی ، اس اجنبی فضا میں اپنائیت کیسی؟
میں نے سر اٹھا کر دیکھا ، ایک بوڑھی عورت جھریوں سے بھرا چہرہ موٹی سی دھوتی لپیٹے پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے کھڑی تھی۔ وہ محبت سے بولی؛
”بیٹی پانی پی لو۔”
اور میں حقیقت کی دنیا میں لوٹ آئی ، مجھے احساس ہو گیا کہ میں اس وقت کہاں ہوں۔ میں نے پانی پینے کے لئے اپنا چلّو بڑھا دیا۔
وہ عورت محبت سے بولی؛ ”بیٹی گلاس میں ہی پی لو۔”
میں نے بمشکل کہا ؛؛ نہیں ماسی آپ کا گلاس خراب ہو جاۓ گا۔ ”
وو عورت ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولی،”ان باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ”
اسکے لہجے میں دکھ تھا۔ اپنائیت تھی۔
میں نے گلاس اس کے ہاتھ سے لے لیا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گئی۔
کچھ تو رونے سے دل کا غبارچھٹ گیا تھا کچھ ٹھنڈا پانی پی کر سکون ملا۔
کچھ دور پر بچے اور آصف ایک چارپی پر بیٹھے تھے اور ایک بوڑھا آدمی ان سے باتیں کر رہا تھا پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔
” بیٹی، یہ گھر تمہارا تھا اب بھی تمہارا ہے اور تمہارا ہی رہے گا۔ تمہیں اس کا بہت دکھ ہے میں جانتا ہوں ، میں یہ گھر تمہیں دے دوں گا تم اس میں آ کر رہو ، میں اپنے لئے کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈھ لوں گا۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے آج میری بیٹی اس گھر میں آئی ہے ، آج میری مدّتوں کی دبی ہوئی خواہش پوری ہوئی ہے کہ کوئی میرے گھر کو اپنا کہے ، بیٹی یہ تیرا ہی گھر ہے ، تو مجھے ایک دفعہ باپ کہ کر پکار لے۔”
اس آدمی کے چہرے پر کرب اور خلوص کے ملے جلے جذبات تھے۔
اور میں نے اپنے جذبات پر قابو پا تے ہوئے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا؛
” بابا یہ گھر آپ کا ہی رہے گا ، میں یہ گھر لینے نہیں آئی ہوں ، میں تو صرف دیکھنے آئی ہوں۔ میں تو یہاں سے چلی جاؤں گی-”
بابا دکھ سے بولے؛
” بیٹی، جب تک تیرا دل چاہے تو اس گھر میں رہ ، اس گھر کے دروازے ہمیشہ تیرے لئے کھلے رہیں گے۔”
پھر وو بوڑھی عورت سے مخاطب ہوا ،” تلسی ، جلدی سے بٹیا کے لئے کھانا لے آ ، جوائی اور بچے بھی بھوکے بیٹھے ہیں۔”
میں نے کہا،” بابا ، آپ کھانے کی تکلیف مت کیجئے۔ ”
بابا محبت سے بو لے؛ ”بیٹی، تو باپ کے گھر بھی تکلّف کرتی ہے، کھانا کھاۓ بغیر میں تجھے نہیں جانے دوں گا۔”
میں چھت پر جانے کے لئے بے چین تھی مجھے معلوم تھا اوپر کی تپتی چھتیں اور منڈیریں میری منتظر ہوں گی۔
پھر میں نے با با سے کہا،،، بابا، میں اوپر جاؤں گی،”
بابا خوش ہوکر بولے؛” ہاں ہاں اوپر چلی جا ، جب تک تلسی کھانا تیار کرتی ہے۔”
اور میں اوپر پہنچ گئی۔
بچے بھی میرے پیچھے پیچھےآ گئے۔
اوپر کی فضا مجھے بالکل اپنی سی لگی ، ویسی ہی دھوپ میں جھلستی چھتیں تھیں، یہاں کوئی دیوار کھڑی کرکے حصّے الگ نہیں کے گئے تھے، سب سے پہلے تو میں اس حصّے میں گئی جہاں مولسری کا درخت چھت پر جھکا ہوا تھا ، یہاں میں گھنٹوں مولسری کے پھول جمع کرکے اپنی ہمجولیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی اور اب مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ پیڑ مجھ سےشکایت کر رہا ھو ” تم اتنے دن کہاں رہیں؟ مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی تھیں؟”
پھر میں چھتوں چھتوں منڈیروں منڈیروں ایسی دوڑتی پھر رہی تھی جیسے بچپن میں پھرتی تھی۔ میں بالکل بھول چکی تھی کہ اب میرا بچپن نہیں ہے اور میرے ساتھ میرے بچے ہیں۔ چھت پر جا کر میں بہت خوش تھی اور بچے بھی میری خوشی میں خوش تھے۔
بابا نے نیچے سے آواز دے کر بلا لیا، کھانا تیار ہو گیا تھا۔ چٹائی پر بیٹھ کر ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور واپس چلنے کو تیار ہوئے۔ بابا کا اصرار تھا کہ ہم ان ہی کے ہاں ٹہریں لیکن ہم ان سے روز آنے کا وعدہ کرکے ماموں جا ن کے ہاں آ گئے۔
بابا روز آنے کو نہ بھی کہتے جب بھی میں وہاں ضرور جاتی۔ اسی نور محل کی کشش تو مجھے اتنی دور لائی تھی میں اسے کیسے چھوڑ سکتی تھی۔
سر بہت بوجھل ہو رہا تھا میں تھک کر سو گئی۔
شام کو ماموں جا ن اور آصف نے سیر کا پروگرام بنایا ، میں کسی ایک جگہ نہیں جانا چاہتی تھی میں تو شہر کی ساری سڑکوں پر بلا مقصد گھومنا چاہتی تھی اور پھر ہم شہر کی مختلف سڑکوں پر گھومتے رہے۔ چھوٹا تالاب ، جس کے کنارے رانی کملا پتی کا محل تھا جو آدھا پانی کے اوپر آدھا زمین کے نیچے تھا۔ بڑا تالاب ، صدر منزل، موتیا تالاب ، امیر گنج، باب عالی ہوتے ہوئے جب ہم صدر بازار کی طرف جانے لگے تو میں نے کہا؛
” آصف کیمبرج اسکول کی طرف چلئے میں اپنا اسکول دیکھوں گی۔”
اور جب گا ڑی کیمبرج کے آگے رکی تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کے یہ وہی اسکول ہے جس میں میں نے پڑھا تھا۔ اب تو یہ دو منزلہ عمارت تھی ، دور تک ہوسٹل پھیلا ہوا تھا۔ مجھے تو وہی پہلے کی عمارت دلکش معلوم ہوتی تھی۔ اس میں اب میرے لئے کوئی کشش نہیں تھی۔ پھر میں نے اس امرود کےپیڑ کو تلاش کرنا چاہا جس کے نیچے بیٹھ کر میں بھیا اور زیبا کچے امرود کھایا کرتے تھے لیکن وہاں تو اب کمروں کی لمبی قطاریں تھیں۔
میں ایک مرتبہ پھر اداس ہو گئی اور اکتا کر کہا؛
” اب پہاڑی پر چلیں جہاں عید گاہ ہے۔ ” پہاڑی کے پر پیچ راستے شروع ہو گئے لیکن مجھے عیدگاہ کہیں بھی نظر نہیں آئی اور نظر بھی کیسے آتی ، سڑک کے دونوں طرف اتنی بلند و با لا عمارتیں جو بن گئی تھیں۔ ہم عید گاہ تک پہنچ گئے تھے۔ عیدگاہ تو ویسی ہی تھی لیکن ان عمارتوں سے اس کا حسن چھپ گیا تھا۔
میرا یہ روز کا معمول تھا صبح اٹھتے ہی نور محل چلی جاتی۔ وہاں بابا اور ماسی میرے آگےبچھ بچھ جاتے ، وہاں کے ہر کمرے ہر حصّے میں پھرتی ، کئی گھنٹے وہاں گزا رتی اور شام کو بے مقصد سڑکوں پر گھومتی۔ شہر کے علاوہ گردو نواح کے سارے علاقے کئی کئی مرتبہ دیکھ لیے ، پھر بھی دل نہ بھرتا، میں ان مناظر کو ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھوں میں سمو لینا چاہتی تھی۔
اور اب آخر کو وہ گھڑی آ ہی گئی جس کے تصوّر سے میں اداس ہو جایا کرتی تھی۔ آصف کی چھٹی ختم ہو رہی تھی اور مجھے وہاں سے واپس جانا تھا۔ اس مرتبہ نور محل نے مجھے وہ سکوں نہ دیا ، دکھوں کے گھاؤ لگے لیکن جس کو بابا کے خلوص نے مندمل کر دیا۔ میں جب آخری بار ان سے ملنے گئی تو وہ دونوں بہت اداس تھے ، میں رو رہی تھی، ماسی اور بابا بھی میرے ساتھ رو رہے تھے۔ چلتے وقت ا نہوں نے ایک ڈبّہ جس میں کچھ زیور تھے اور کچھ کپڑے دئے ، بچوں اور آصف کو بھی کچھ دیا ، میں نے لینے سے انکار کیا تو بابا دکھ سے بولے؛
” باپ کے گھر سے بیٹیاں خالی ہاتھ نہیں جایا کرتیں ، ان کو گہنا پاتا دیا جاتا ہے۔ ”
یہ کہہ کر وہ رونے لگے، پھر بولے؛ ” بیٹی خط لکھتی رہنا ، اور سال دو سال میں پھر کبھی اپنے بوڑھے بابا کو دیکھ جانا ، کون جانے کتنی زندگی باقی ہے، یہ تو میری خوش قسمتی ہے کے مجھے آخر عمر میں بیٹی مل گئی۔”
میں نے روتے ہوئے جواب دیا؛ ”بابا، آپ ایسی باتیں نہ کیجئے ، میں ضرور آؤں گی۔” پھر کچھ سوچ کر بولی؛ ” مگر بابا، میں آپ کو کس زبان میں خط لکھوں گی ، آپ میری زبان نہیں جانتے اور میں آپ کی! ”
بابا بولے؛ ” بیٹی محبت کے رشتے زبان کے فرق سے نہیں مٹا کرتے، تم جس زبان میں چاہو مجھے خط لکھنا میں کسی سے پڑھوا لیا کروں گا۔”
اور میں سوچ رہی تھی بابا کتنے عظیم ہیں۔
ہماری روانگی کا وقت ہو رہا تھا ، میں ان لوگوں سے رخصت ہو کر کار میں بیٹھی ، جب تک بابا نظر آتے رہے میں ان کو دیکھتی رہی وہ بار بار اپنے ہاتھ آنکھوں تک لے جاتے تھے، ادھر میری آنکھوں سے بھی گنگا جمنا بہ رہی تھی۔
سب کچھ پیچھے رہ گیا تھا اور میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ اب مجھے نور محل چھوڑنے کے ساتھ ساتھ بابا اور ماسی کو چھوڑنے کا بھی رنج تھا۔ مجھے تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ زندگی میں ایک مرتبہ اور اپنے پیارے نور محل کو دیکھ لیا اور بابا اور ماسی جیسی مخلص ہستیاں مجھے مل گیں اور میں سوچ رہی ہوں؛
مجھے کس کا مشکور ہونا چاہیے ، آصف کا یا اس ہستی کا جس نے اختلافات کی خلیج پاٹ کر یہ امن سمجھوتہ کیا اور جس کی بدولت میں یہاں تک پہنچی تھی۔