ایران سے ترکی پیدل جانے والوں کی لئے بُری خبر

انقرہ﴿روزنامہ یورپ انٹرنیشنل﴾پاکستانیوں اور ایرانی نوجوانوں کی بڑی تعداد ایران کے راستےترکی میں داخل ہو کر آگے سے یورپ کی راہ تلاش کرتی رہی ہے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو پائے گا کیونکہ ترکی نے علیحدگی پسند کرد باغیوں کے ایران کی سرزمین سے حملوں کی روک تھام کے لیے اپنی سرحد پر حفاظتی دیوار کی تعمیر کا عزم ظاہر کیا ہے۔اس عمل سے پاکستانیوں اور ایرانی نوجوانوں کو یہ نقصان ہوگا کہ وہ ایران کے راستے ترکی نہیں جا پائیں گے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ امریکا کے دوران واشنگٹن کو شام میں کرد باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کے فیصلے سے روکنے میں ناکامی کے بعد ترکی نے سرحد پار سے کرد باغیوں کے حملوں کی روک تھام کے لئے ایران سے ملحقہ اپنی سرحد پر 70 کلو میٹر طویل کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ایرانی حکام کا موقف ہے کہ سرحد پر کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے سے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایران شمالی عراق اور شام میں جاری آپریشنز میں ترکی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کرد باغیوں کو استعمال کر رہا ہے۔